| آئینہ قیامت |
گئی ہیں ،سواریاں دروازوں پرتیارکھڑی ہیں ،محمل کس گئے ہیں ،پردے کا انتظام ہوچکاہے،ادھرامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے،بھائی،بھتیجے،گھروالے سوارہورہے ہیں ادھر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجدنبوی علی صاحبہ الصلاۃوالسلام سے باہرتشریف لائے ہیں، محرابوں نے سرجھکا کرتسلیم کی،میناروں نے کھڑے ہو کر تعظیم دی،قافلہ سالارکے تشریف لاتے ہی نبی زادوں کاقافلہ روانہ ہو گیاہے ۔
مدینہ میں اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے حضرت صغریٰ امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی اور جناب محمد بن حنفیہ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے باقی رہ گئے ۔
اللہ اکبر! ایک وہ دن تھاکہ حضورسرورِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کافروں کی ایذا دہی اورتکلیف رسانی کی وجہ سے مکہ معظمہ سے ہجرت فرمائی۔ مدینہ والوں نے جب یہ خبر سنی ،دلوں میں مسرت آمیزاُمنگوں نے جوش مارا اورآنکھوں میں شادی عید کا نقشہ کھنچ گیا ، آمدآمدکاانتظارلوگوں کوآبادی سے نکال کرپہاڑوں پرلے جاتا، منتظر آنکھیں مکہ کی راہ کو جہاں تک ان کی نظر پہنچتی ،ٹکٹکی باندھ کرتکتیں ،اورمشتاق دل ہرآنے والے کودورسے دیکھ کرچونک پڑتے ،جب آفتاب گرم ہوجاتا، گھروں پر واپس آتے ۔ اسی کیفیت میں کئی دن گزرگئے ،ایک دن اَورروز کی طرح وقت بے وقت ہو گیا تھا اورانتظارکرنے والے حسرتوں کو سمجھاتے ،تمناؤں کوتسکین دیتے پلٹ چکے تھے ،کہ ایک یہودی نے بلندی سے آوازدی''اے راہ دیکھنے والو!پلٹو!تمہارا مقصودبرآیا اورتمہارا مطلب پوراہوا۔''اس صداکے سنتے ہی وہ آنکھیں جن پرابھی حسرت آمیز حیرت چھاگئی تھی ،اشکِ شادی برسا چلیں ،وہ دل جو مایوسی سے مرجھا گئے تھے ،تازگی کے ساتھ جوش مارنے لگے ،بے قرارانہ پیشوائی کوبڑھے ،پروانہ