| آئینہ قیامت |
کی مقدس گودسے لپٹ لیں پھرخداجانے زندگی میں ایساوقت ملے یا نہ ملے ۔امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ آرام میں ھے کہ خواب دیکھا، حضورپرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے ہیں اورامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ و کلیجے سے لگا کرفرماتے ہیں:''حسین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ و وقت قریب آتاہے کہ تم پیاسے شہیدکئے جاؤ اور جنت میں شہیدوں کے بڑے درجے ہیں ۔''یہ دیکھ کرآنکھ کھل گئی ،اٹھے اور روضہ مقدس کے سامنے رخصت ہونے کو حاضر ہوئے۔
مسلمانو!حیاتِ دنیاوی میں امام کی یہ حاضری پچھلی حاضری ہے، صلوۃ وسلام عرض کرنے کے بعدسرجھکا کرکھڑے ہوگئے ہیں ،غمِ فراق کلیجے میں چٹکیاں لے رہا ہے ،آنکھوں سے لگاتارآنسوجاری ہیں ،رقت کے جوش نے جسمِ مبارک میں رعشہ پیداکردیاہے ،بے قراریوں نے محشربرپاکررکھا ہے ،دل کہتا ہے سرجائے ،مگریہاں سے قدم نہ اٹھائیے، صبح کے کھٹکے کاتقاضاہے جلدتشریف لے جائیے ،دو قدم جاتے ہیں اورپھر پلٹ آتے ہیں۔ حِب طن قدموں پر لوٹتی ہے کہ کہاں جاتے ہو؟غربت دامن کھینچتی ہے کیوں دیر لگاتے ہو ؟شوق کی تمنا ہے کہ عمربھرنہ جائیں، مجبوریوں کاتقاضا ہے دم بھرنہ ٹھہرنے پائیں ۔
شعبان کی چوتھی رات کے تین پہرگزرچکے ہیں اورپچھلے پہرکے نرم نرم جھونکے سونے والوں کو تھپک تھپک کر سلارہے ہیں ،ستاروں کے سنہرے رنگ میں کچھ کچھ سپیدی ظاہرہوچلی ہے ،اندھیری رات کی تاریکی اپنادامن سمیٹناچاہتی ہے تمام شہر میں سناٹاہے ،نہ کسی بولنے والے کی آوازکان تک پہنچتی ہے ،نہ کسی چلنے والے کی پہچل سنائی دیتی ہے ،شہربھرکے دروازے بند ہیں ،ہاں خاندانِ نبوت کے مکانوں میں اس وقت جاگ ہو رہی ہے اورسامانِ سفر درست کیا جارہا ہے ، ضرورت کی چیزیں باہرنکالی