تک میں واپس نہ آؤں کہیں ہل کر نہ جانا۔''یہ فرما کر اندر تشریف لے گئے ،ولید کے پاس مروان کو بیٹھا پایا ،سلام علیک کر کے تشریف رکھی، ولید نے خط پڑھ کر سنایا وہی مضمون پایا جو حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خیال شریف میں آیا تھا ۔ بیعت کا حال سن کر ارشاد ہوا:''مجھ جیسے چھپ کربیعت نہیں کرتے ،سب کو جمع کرو ، بیعت لو، پھر ہم سے کہو '' ولیدنے بنظرِعافیت پسندی عرض کی :''بہتر!تشریف لے جائیے۔'' مروان بولا: ''اگر اس وقت انہیں چھوڑدے گا اور بیعت نہ لے گا توجب تک بہت سی جانوں کا خون نہ ہو جائے، ایساوقت ہاتھ نہ آئے گا ،ابھی روک لے بیعت کر لیں تو خیر ورنہ گردن ماردے۔ ''یہ سن کر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''ابن الزرقاء!تُو یا وہ ،کیا مجھے قتل کر سکتا ہے ؟خداکی قسم!تُونے جھوٹ کہا اورپاجی پن کی بات کی ۔'' یہ فرماکر واپس تشریف لائے۔
مروان نے ولیدسے کہا:''خداکی قسم! اب ایساموقع نہ ملے گا ۔'' ولیدبولا: ''مجھے پسند نہیں کہ بیعت نہ کرنے پرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کروں ،مجھے تمام جہاں کے ملک ومال کے بدلے میں بھی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قتل منظورنہیں ،میرے نزدیک حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا جس شخص سے مطالبہ ہو گا وہ قیامت کے دن خدائے قہار کے سامنے ہلکی تول والا ہے۔'' مروان نے منافقانہ طورپرکہہ دیا:'' تُونے ٹھیک کہا۔ ''