Brailvi Books

آئینہ قیامت
24 - 100
یزید کا پیغامِ بیعت اور امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدینے سے روانگی
    امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کام تمام کرکے جب یزید پلید نے اپنے ناشاد دل کو خوش کرلیا ،اب اس شقی کو امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یادآئے ،مدینہ کے صوبہ دارولید کو خط لکھا کہ

حسین اور عبداللہ ا بن عمر اور عبد اللہ ا بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بیعت کے لئے کہے اور مہلت نہ دے۔ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مسجد میں بیٹھنے والے آدمی ہیں اورابنِ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب تک موقع نہ پائیں گے خاموش رہیں گے ،ہاں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت لینی سب سے زیادہ ضروری ہے کہ یہ شیر اور شیر کا بیٹا موقع کا انتظار نہ کریگا ۔ 

    صوبہ دار نے خط پڑھ کر پیامی بھیجا،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''چلوآتے ہیں''۔ پھر عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:''دربار کا وقت نہیں، بے وقت بلانے سے معلوم ہوتا ہے کہ سردار نے وفات پائی ،ہمیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ موت کی خبر مشہور ہونے سے پہلے یزید کی بیعت ہم سے لی جائے ''۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:'' میرابھی یہی خیال ہے ایسی حالت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کیا رائے ہے؟'' فرمایا: ''میں اپنے جوان جمع کر کے جاتا ہوں ،ساتھیوں کودروازے پر بٹھا کر اس کے پاس جاؤں گا ۔'' ابن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:''مجھے اس کی جانب سے اندیشہ ہے۔'' فرمایا:''وہ میرا کچھ نہیں کرسکتا۔ ''پھر اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لے گئے ،ہمراہیوں کو ہدایت کی: ''جب میں بلاؤں یا میری آوازبلند ہوتے سنو ،اندرچلے آنا اورجب
Flag Counter