Brailvi Books

آئینہ قیامت
23 - 100
ایک میں ہے کنکریاں ،حاضرکیں ۔حضورعلیہ الصلاۃو السلام نے سونگھ کر فرمایا: ''رِیْحُ کَرْبٍ وَّبَلاَء''بے چینی اوربلا کی بُوآتی ہے ،پھرام المؤمنین کو وہ مٹی عطاہوئی اور ارشاد ہوا: ''جب یہ خون ہوجائے توجاننا کہ حسین شہیدہوا''انہوں نے وہ مٹی ایک شیشی میں رکھ چھوڑی ۔ اُم المؤمنین فرماتی ہیں:'' میں کہا کرتی جس دن یہ مٹی خون ہو جائے گی کیسی سختی کادن ہوگا۔''
 (المعجم الکبیر،الحدیث ۲۸۱۷،۲۸۱۸،۲۸۱۹،ج۳،ص۱۰۸)
    امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ صفین کو جاتے ہوئے زمینِ کربلا پر گزرے، نام پوچھا لوگوں نے کہا:''کربلا!''یہاں تک روئے کہ زمین آنسوؤں سے ترہوگئی پھرفرمایا:میں خدمتِ اقدس حضور سیدِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں حاضر ہوا، حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کوروتا پایا،سبب پوچھا ،فرمایا:'' ابھی جبریل کہہ گئے ہیں کہ میرا بیٹاحسین  فرات کے کنارے کربلا میں قتل کیاجائے گا''پھرجبریل  نے وہاں کی مٹی مجھے سونگھائی مجھ سے ضبط نہ ہوسکااورآنکھیں بہہ نکلیں ۔ 

    ایک روایت میں ہے ،مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مقام سے گزرے جہاں اب امامِ مظلوم کی قبرمبارک ہے ،فرمایا: یہاں ان کی سواریاں بٹھائی جائیں گی، یہاں ان کے کجاوے رکھے جائیں گے ،اوریہاں ان کے خون گریں گے ۔آلِ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہم کے کچھ نوجوان اس میدان میں قتل ہوں گے جن پر زمین وآسماں روئیں گے ۔                                                                                                    (دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی،ج۲،ص۱۴۷)
اللھم صل علی سیدنا ومولانامحمدوعلی الہ واصحٰبہ اجمعین
Flag Counter