Brailvi Books

آئینہ قیامت
22 - 100
امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر واقعہ کربلا سے پہلے ہی مشہور تھی
    حضورسرورِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بعثت شریفہ سے تین سوبرس پیش تریہ شعرایک پتھرپرلکھاملا:
اَ تَرْجُوْ اُمَّۃٌ قَتَلَتْ حُسَیْناً

شَفَاعَۃَ جَدِّہٖ یَوْمَ الْحِسَابِ
  کیا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتل یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ روزِقیامت ان کے نانا جان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت پائیں گے ؟

یہی شعر ارضِ روم کے ایک گرجا میں لکھاپایا گیا اور لکھنے والا معلوم نہ ہوا۔کئی حدیثوں میں ہے ،حضور سرورِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ام المؤمنین حضرتِ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھاکے کاشانہ میں تشریف فرماتھے ،ایک فرشتہ کہ پہلے کبھی حاضر نہ ہواتھا اللہ تبارک وتعالیٰ سے حاضری کی اجازت لے کر آستان بوس ہوا،حضورپرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ام المؤمنین سے ارشادفرمایا:دروازے کی نگہبانی رکھو،کوئی آنے نہ پائے ،اتنے میں سیدناامامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازہ کھول کر حاضر ِخدمت ہوئے اور کُودکر حضور پرنورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی گودمیں جابیٹھے ،حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پیار فرمانے لگے ،فرشتے نے عرض کی: ''حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم انہیں چاہتے ہیں ؟ فرمایا: ہاں! عرض کی:'' وہ وقت قریب آتاہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت انہیں شہید کرے گی اور حضور چاہیں  تووہ زمین حضورکو دکھا دوں جہاں یہ شہید کئے جائیں گے ۔ پھرسرخ مٹی اورایک روایت میں ہے ریت،
Flag Counter