Brailvi Books

آئینہ قیامت
21 - 100
وہ شقیہ بادشاہ بیگم بننے کے لالچ میں شاہان جنت کا ساتھ چھوڑ کر ،سلطنت عقبیٰ سے منہ موڑ کرجہنم کی راہ پر ہولی۔ کئی بار زہر دیاکچھ اثر نہ ہوا،پھرتو جی کھول کر اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرے اور امام جنت مقام کو سخت تیز زہر دیا یہاں تک کہ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جگرپارے کے اعضائے باطنی پارہ پارہ ہو کر نکلنے لگے۔

    یہ بے چین کر نے والی خبر سن کرحضرت امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے پیارے بھائی کے پاس حاضرہوئے ۔سرہانے بیٹھ کرگزارش کی: ''حضرت کوکس نے زہردیا؟ فرمایا ''اگر وہ ہے جومیرے خیال میں ہے تواللہ بڑابدلہ لینے والا ہے،اور اگرنہیں، تومیں بے گناہ سے عوض نہیں چاہتا۔''
 (حلیۃ الاولیاء،الحسن بن علی،الحدیث۱۴۳۸،ج۲،ص۴۷ملخصاً)
    ایک روایت میں ہے،فرمایا:''بھائی!لوگ ہم سے یہ امیدرکھتے ہیں کہ روز قیامت ہم ان کی شفاعت فرماکرکام آئیں نہ یہ کہ ان کے ساتھ غضب اورانتقام کوکام میں لائیں''۔
واہ رے حلم کہ اپنا تو جگر ٹکڑے ہو

پھر بھی ایذائے ستم گرکے روا دار نہیں
    پھر جانے والے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنے والے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویوں وصیت فرمائی:''حسین دیکھو سفیہانِ کوفہ سے ڈرتے رہنا ،مباداوہ تمہیں باتوں میں لے کربلائیں اوروقت پر چھوڑ دیں ،پھرپچھتاؤ گے اوربچاؤ کاوقت گزرجائے گا''۔ 

    بے شک امامِ عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ وصیت موتیوں میں تولنے کے قابل اوردل پرلکھ لینے کے لائق تھی،مگراس ہونے والے واقعے کوکون روک سکتا؟ جسے قدرت نے مدتوں پہلے سے مشہورکررکھاتھا۔
Flag Counter