Brailvi Books

آئینہ قیامت
20 - 100
حظ ہے اوربلامحض رضائے دوست ہے ۔ ''
اللھم صل علی سیدنا ومولانامحمدوعلی الہ واصحابہ اجمعین
یزیدپلیدکی تخت نشینی اورقیامت کے سامان
    ہجرت کاساٹھواں سال اوررجب کامہینہ کچھ ایسا دل دکھانے والاسامان اپنے ساتھ لایا،جس کانظارہ اسلامی دنیاکی آنکھوں کو ناچاراس طرف کھینچتا ہے،جہاں کلیجا نوچنے والی آفتوں ،بے چین کردینے والی تکلیفوں نے دینداردِلوں کے بے قرارکرنے اورخداپرست طبیعتوں کوبے تاب بنانے کے لئے حسرت وبے کسی کاسامان جمع کیا ہے۔ یزیدپلیدکاتختِ سلطنت کواپنے ناپاک قدم سے گندہ کرنا ان ناقابلِ برداشت مصیبتوں کی تمہیدہے جن کوبیان کرتے کلیجا منہ کوآتااوردل ایک غیرمعمولی بے قراری کے ساتھ پہلومیں پھڑک جاتاہے ۔اس مردودنے اپنی حکومت کی مضبوطی ، اپنی ذلیل عزت کی ترقی اس امرمیں منحصرسمجھی کہ اہلِ بیتِ کرام کے مقدس وبے گناہ خون سے اپنی ناپاک تلوار رنگے ۔اس جہنمی کی نیت بدلتے ہی زمانے کی ہوانے پلٹے کھائے اورزہریلے جھونکے آئے کہ جاوداں بہاروں کے پاک گریباں،بے خزاں پھولوں، نوشگفتہ گلوں کے غم میں چاک ہوئے، مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہری بھری لہلہاتی پھلواڑی کے سہانے نازک پھول مرجھا مرجھا کرطرازِ دامنِ خاک ہوئے۔
امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور بھائی کو نصیحت
    اس خبیث کاپہلا حملہ سیدنا امام حسن پر چلا۔ جعدہ زوجہ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہکایا کہ اگر تو زہر دے کر امام کا کام تمام کر دے گی تو میں تجھ سے نکاح کر لوں گا۔
Flag Counter