Brailvi Books

آئینہ قیامت
19 - 100
اللہ عزوجل کے حقیقی دوست
    حضرتِ سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بذریعہ الہام فرمایا گیا ''اے سری! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے مخلوق پیدا فرماکراس سے پوچھا:''کیاتم مجھ کودوست رکھتے ہو؟'' سب نے بالاتفاق عرض کی کہ ''تیرے سوا اورکون ہے جسے ہم دوست رکھیں گے؟'' پھرمیں نے دنیا بنائی نوحصے اس کی طرف ہوگئے ،ایک حصہ نے کہا:''ہم اس کی خاطر تجھ سے جدائی نہ کریں گے۔''پھرآخرت خلق فرمائی ،اس ایک حصہ سے نوحصے اس کے خریدار ہوگئے،باقیوں نے عرض کی:'' ہم دنیا کے سائل نہ آخرت پرمائل،ہم تو تیرے چاہنے والے ہیں ۔''پھربلائیں پیش کیں ان میں سے بھی نوحصے گھبراکرپریشان ہوگئے، ایک حصہ نے عرض کی: ''تُوزمین اورآسمان کے چودہ طبق کوبلاکاایک طوق بناکر ہمارے گلے میں ڈال دے، مگرہم تیری طرف سے منہ پھیرنے والے نہیں۔'' ان کی نسبت ارشاد ہوا:
''اُولئِکَ اَوْلِیَائِی حَقًّا''
یہ میرے سچے دوست ہیں ۔ 

    اب اہلِ بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بلاپسندی حیرت کی آنکھوں سے دیکھنے کے قابل ہے ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بلاونعمت کے بارے میں سُوال ہوا،فرمایا: ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں ۔
ع انچہ ازدوست می رسدنیکوست

    (یعنی دوست سے جو کچھ پہنچے اچھا ہوتا ہے۔)
امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخبرہوئی ،ارشادہوا:''اللہ عزوجل ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم کرے مگرہم اہل بیت کے نزدیک بلا،نعمت سے افضل ہے کہ نعمت میں نفس کابھی
Flag Counter