Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
59 - 71
(۲)عبد اللہ نے حضور سے عرض کیا تھا کہ آپ کا بقایا اسی جگہ پر لاتا ہوں حضور (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم )مجھے یہاں ہی ملیں حضور (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) نے قبول فرما لیا تھاکہ تمھیں یہیں ملوں گا یہ ملنے کا وعدہ حضور( صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہوا تھا لہذا حدیث واضح ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور نے تو کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ 

    (۳)حضور( صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کا یہاں ٹھہرنا اپنا مال لینے کیلئے نہ تھا اپنا وعدہ پورا کرنے کیلئے تھا مال تو ان کے گھر جاکر بھی وصول کیا جاسکتاتھا ،سچ اور وعدہ پورا کرنا تمام انبیاء کرام کی سنت ہے اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کیلئے فرماتا ہے وَاِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی اور اسماعیل علیہ السلام کیلئے فرمایا کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ۔    

(مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۴۹۱)