Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
58 - 71
(25)ایفائے عہد
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْحَمْسَاءِ قَالَ بَایَعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ یُّبْعَثَ وَبَقِیَتْ لَہُ بَقِیَّۃٌ فَوَعَدْتُہُ أَنْ آتِیَہُ بِہَا فِی مَکَانِہِ فَنَسِیْتُ فَذَکَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَإِذَا ہُوَ فِی مَکَانِہِ فَقَالَ لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَیَّ أَنَا ہَاہُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُکَ
( مشکوۃ المصابیح ،کتاب الادب ، باب الوعد ، الفصل الثانی ، الحدیث ۴۸۸۰ ، ج۲ ، ص۱۹۹)
ترجمہ: 

     روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن ابی الحمساء رضی اللہ عنہ سے فر ماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی نبوت کے ظہور سے پہلے حضور( علیہ الصلوٰۃ والسلام) سے خرید وفروخت کی (۱)اور آپ کا کچھ بقایا رہ گیا میں نے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ وہ چیز لاتا ہوں پھر میں بھول گیا تین دن کے بعد مجھے یاد آیا تو حضور انور( صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) اسی جگہ تھے (۲)فرمایا کہ تم نے مجھ پر مشقت ڈال دی میں تین دن سے یہیں تمھارا انتظار کر رہا ہوں ۔

وضاحت :

    (۱)یہ بیع منابذہ تھی یعنی ساما ن کے عوض سامان کی اس لیے بایعت مفاعلۃ سے فرمایا یہ واقعہ ظہور نبوّت سے پہلے کا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہٖ وسلم کی صداقت کس شان کی تھی اور نبوّت کے ظہور سے پہلے بھی کیسے سچے تھے۔
Flag Counter