Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
56 - 71
(24)حیاء کی فضیلت
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ وَہُوَ یَعِظُ أَخَاہُ فِی الْحَیَاء ِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعْہُ فَإِنَّ الْحَیَاء َ مِنْ الْإِیمَانِ
(مشکوۃ المصابیح ،کتاب الاداب، باب الرفق والحیاء ۔۔۔۔۔۔الخ ، الفصل الاول ، الحدیث ۵۰۷۰ ، ج ۲ ، ص ۲۲۸)
ترجمہ: 

     روایت ہے حضرت ابن عمر( رضی اللہ عنہما) سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم ایک انصاری شخص پر گزرے جو اپنے بھائی کو شرم وحیاء کے متعلق نصیحت کررہا تھا(۱) تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو (۲)کیونکہ حیاء ایمان سے ہے ۔(۳)    

وضاحت :

    (۱)اس سے کہہ رہا تھا تو بہت شرمیلا ہے اتنی شرم مت کیا کر کیونکہ بہت شرمیلا آدمی دنیا کما نہیں سکتا یہاں وعظ سے مراد ڈرا کر نصیحت کرنا ہے۔

     (۲)یعنی اسے حیاء اور غیرت سے نہ روکو اسے شرمیلا رہنے دو۔

     (۳)خیال رہے جو حیاء گناہوں سے روک دے وہ تقوٰی کی اصل ہے اور جو غیرت وحیاء اللہ عزوجل کے مقبول بندوں کی ہیبت دل میں پیدا کردے وہ ایمان کا رکن اعلیٰ ہے اورجو حیاء نیک اعمال سے روک دے وہ بری ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو نماز پڑھنے سے شرم لگتی ہے یہ حیاء نہیں بے وقوفی ہے یہاں پہلے یا دوسرے درجے کی
Flag Counter