Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
55 - 71
(23)عقیقہ کا بیان
عَنْ سَمُرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْغُلَامُ مُرْتَہَنٌ بِعَقِیقَتِہِ تُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ السَّابِعِ وَیُسَمَّی وَیُحْلَقُ رَأْسُہُ۔
( مشکوۃ المصابیح ،کتاب الصید والذبائح ، باب العقیقۃ ، الفصل الثانی ،الحدیث ۴۱۵۳، ج۲ ،ص ۸۷)
ترجمہ: ۔ 

    روایت ہے حضرت سمرۃ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہوتا ہے(۱) ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور نام رکھا جائے اس کا سر منڈ وایا جائے ۔(۲)

وضاحت :

    (۱) یعنی بچہ دنیاوی آفات ومصیبتوں کے ہاتھو ں میں ایسا گرفتار ہوتا ہے جیسے گروی چیز قرض کے قبضہ میں قید ہوتی ہے کہ اس سے مالک نفع حاصل نہیں کرسکتا یا یہ مراد ہے کہ بچہ کی شفاعت اپنے باپ وغیرھم کے لئے عقیقہ پر موقوف ہے کہ اگر بغیر عقیقہ فوت ہوگیا تو ممکن ہے کہ ماں باپ کی شفاعت نہ کرے ۔ خیال رہے کہ یہاں مرتہن بمعنی رہن یا مرہون سے ہے

     (۲)یعنی بچہ کی ولادت کے ساتویں دن یہ تین کام کیے جائیں اس کا نا م رکھنا، سر منڈوانا استرے سے اور جانور ذبح کرنا سنت یہی ہے اور اگر ساتویں دن نہ ہوسکے تو پندرہویں دن یا جب کبھی بھی عقیقہ ہوسکے تو ساتویں دن کا حساب لگا یا جائے کہ جب بھی عقیقہ کیا جائے اس کی پیدائش سے ایک دن پہلے کیا جائے مثلا اگر بچہ جمعہ کے دن پیدا ہوا ہے تو جب بھی عقیقہ کیا جائے جمعرات کو کیا جائے ۔

(مراٰۃ المناجیح،ج6،ص۴تا۵)
Flag Counter