Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
54 - 71
(22)نیت کی اہمیت
عَنْ عُمَرَ بْنِ ا لْخَطَّاب قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
( مشکوۃ المصابیح ، مقدمۃ المولف ، ج۱ ، الحدیث۱، ص ۲۰)
ترجمہ: 

     روایت ہے (حضرت )عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی (کریم ) صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کہ اعمال نیتوں سے ہیں ۔

وضاحت : 

    نیت ارادہ عمل کو بھی کہتے ہیں اور اخلاص کو بھی اس صورت میں یہ حدیث اپنے عموم پر ہے کوئی عمل اخلاص کے بغیر ثوا ب کا باعث نہیں خواہ عبادات محضہ ہوں جیسے نماز روزہ وغیرہ یا عبادات غیرمقصودہ جیسے وضو غسل کپڑاجگہ کا پاک کرنا وغیرہ کہ ان پر ثواب اخلاص سے ہی ملتاہے صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اخلاص اور نیتِ خیر ایسی نعمتیں ہیں کہ ان کے بغیر عبادات محض عادتیں بن جاتی ہیں اور اس کی برکت سے کفر شکربن جاتاہے اور گناہ ومعصیت اطاعت حضرت ابو امیہ ضمیر ی نے ایک موقعہ پر کفریہ الفاظ بول لیے ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی رات غارِ ثور میں ایک قسم کی خود کشی کرلی، سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے خندق میں عمداً نماز عصر چھوڑ دی مگر چونکہ نیتیں خیر تھیں اس لیے ان حضرات کے یہ کام ثواب کا باعث بنے ۔

(مراٰۃ لمناجیح ،ج۱،ص۲۲)
Flag Counter