حاکم کا مقام مقدمات کے وقت کچہری ہوتا ہے کھانے وغیرہ کے وقت گھر نماز کے وقت مسجد لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن مجید کے خلاف ہے نہ دوسری احادیث کے دوسرا یہ کہ یہاں ان تین مقاموں کا ذکر وہاں کی ترتیب کے مطابق نہیں کیونکہ میزان پہلے ہے حوض کی نہر اس کے آگے پُل صراط اس کے آگے تیسرا یہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت سے ہمارے نیک عمل ایسے بھاری ہوجائیں گے جیسے روئی پانی میں بھگو کر وزنی ہوجاتی ہے چوتھا یہ کہ یہ حدیث اس حدیث عائشہ کے خلاف نہیں کہ حضور نے فرمایا ان تین مقامات پر کوئی کسی کو یا دنہ کریگا وہاں عام شوہروں کا ذکر ہے نہ کہ حضور انو ر صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کا۔ (مراۃ المناجیح،ج۷،ص۴۵۸تا۴۶۰)