بھی ہوگا کہ گنہگار حضور کو اور غمخوار محبوب اپنے گناہ گار کو تلاش کریں گے دو طرفہ تلاش ہوگی حضور پُل صراط کے کنارے کھڑے ہوں گے تاکہ گِرتوں کو سہارا دیں ۔حضور میزان پر اپنی امت کے اعمال کاوزن اپنے اہتمام سے کروائیں گے کہ اگر کسی امتی کی نیکیاں ہلکی ہوں اور وہ دوزخ میں لے جایا جانے لگے تو اپنا کوئی عمل اپنا قدم رکھ کر ،شفاعت فرماکر ا سکی نیکیاں وزنی کردیں گے دوزخ سے بچالیں گے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کے اعمال کا وزن نہ ہوگا۔
(۴) سبحان اللہ کیا پیارا سوال ہے یعنی آپ کو اس دن ایک جگہ تو مستقل قرارہوگا نہیں کبھی اِن مجرموں کے پاس، کبھی دوسروں کے پاس
کوئی قریب ترازو کوئی لب کوثر کوئی صراط پہ انکو پکارتا ہوگا
کسی طرف سے صدا آئے گی حضور آؤ نہیں تو دم میں غریبوں کا فیصلہ ہوگا
کو ئی کہے گا دُہائی ہے یا رسول اللہ تو کوئی تھام کے دامن مچل رہا ہوگا
غرض ایک جان اور فکرجہاں