شفاعت عامہ تو ہر مومن کی ہوگی خیال رہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک شفاعت مانگ کر ایمان ،تقویٰ ،حُسنِ خاتمہ ، قبر کے امتحان میں کامیابی سب کچھ مانگ لی کہ یہ چیزیں شفاعت خاصہ کی تمھیدیں ہیں ۔
تجھ سے تجھی کو مانگ کر مانگ لی دو جہاں کی خیر
مجھ سا کوئی گدا نہیں تجھ سا کوئی سخی نہیں
اس ایک کلمہ میں بہت سے وعدے ہیں تم ایمان پر جیو گے تمھاری زندگی تقوی میں گزرے گی تمھارا خاتمہ ایما ن پر ہو گا ۔ تمھاری خطائیں قابل معافی ہوں گی تمھاری شفاعت میرے ذمہ ہوگی کیونکہ کفر ، حقوق العباد کی شفاعت نہیں ہوگی آج بھی مسلمان روضہ اطہر پر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم ہم آپ سے شفاعت کی بھیک مانگتے ہیں یہ حدیث اس مانگنے کی اصل ہے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم سے بھیک مانگنا جائز ہے کہ دنیا کی ہر چیز شفاعت سے نیچے ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کسی سائل کو محروم نہیں کرتے وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَاتَنْھَرْ ۔ حضور سے اولاد مانگو دین ودنیا مانگو دنیا کی ہر نعمت مانگو جو مانگو گے پاؤ گے وہاں سے محروم کوئی نہیں پھرتا
(۲)خیال رہے کہ قیامت میں ایک وقت تو وہ ہوگا جب سارا جہاں حضور کو ڈھونڈے گا پھر وقت وہ آئے گا کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم اپنے گناہ گار کو ڈھونڈیں گے
عزیز بچّے کو ماں جس طرح تلاش کرے
خدا گواہ یہی حال آپ کا ہوگا
وہ لیں گے چھانٹ اپنے نام لیواؤں کو محشر میں
غضب کی بھیڑ میں، ان کی میں اس پہچان کے صدقے
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سوال غالباً پہلے وقت کے متعلق ہے کبھی ایسا