Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
46 - 71
(19)ریا کاری ا ور د کھلاوے کی برائی
عَنْ أَبِی سَعْدِ بْنِ أَبِی فَضَالَۃَ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَمَعَ اللہُ النَّاسَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لِیَوْمٍ لَا رَیْبَ فِیہِ نَادَی مُنَادٍ مَنْ کَانَ أَشْرَکَ فِی عَمَلٍ عَمِلَہُ لِلّٰہِ أَحَدًا فَلْیَطْلُبْ ثَوَابَہُ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللہِ فَإِنَّ اللہَ أَغْنَی الشُّرَکَاءِ عَنِ الشِّرْکِ
( مشکوۃ المصابیح ،کتاب الرقاق ، باب الریاء والسمعۃ، الفصل الثانی ، الحدیث ۵۳۱۸ ، ج۲ ، ص ۲۶۷)
ترجمہ:

     روایت ہے حضرت ابو سعد ابن فضالہ( رضی اللہ عنہ) سے وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم سے راوی حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب قیامت کے دن اللہ (عزوجل) لوگوں کو جمع فرمائے گا اس دن جس میں کوئی شک نہیں تو پکارنے والا پکارے گا (۱) کہ جس نے ایسے کام میں جو اللہ کے لئے کرے کسی کو شریک ٹھہرایا (۲)تو وہ اس کا ثواب بھی غیر خدا سے مانگے (۳)کیونکہ اللہ عزوجل شریکوں میں شرک سے بے نیاز ہے ۔    

وضاحت : 

    (۱)یعنی قیامت کے دن ایک فرشتہ اللہ تعالی کی طرف سے اعلان فرمائے گا یہ اعلان تمام لوگوں کو سنانے کے لیے ہوگا ۔

    (۲)یعنی جو کام رضائے الٰہی عزوجل کیلئے کیے جاتے ہیں ان میں کسی بندے
Flag Counter