کی رضا کی نیت کرے بندے سے مراد دنیا دار بندہ ہے اور ظاہر کرنا بھی اپنی ناموری کے لئے ہونا مراد ہے لہٰذا جو شخص اپنی عبادات میں حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی رضا کی بھی نیت کرے یا جو کوئی مسلمانوں کو سکھانے کی نیت سے لوگوں کو اپنے اعمال دکھائے وہ اس وعید میں داخل نہیں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ریا صرف عبادات میں ہوتی ہے معاملات اور دوسرے دنیاوی کام تو دکھانے کے لیے ہی کئے جاتے ہیں ان میں ریا کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسی لئے عمل کے ساتھ عَمِلَہُ لِلّٰہِ فرمایا گیا
(۳)یعنی آج اعمال کے بدلہ کا دن ہے دنیا میں جس کی رضا کے لیے عبادت کی تھی آج اسی سے جنت بھی مانگو یہ انتہائی سختی وناراضی کا اظہار ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ ریاکار کبھی بخشا ہی نہ جائے گا ہر مومن آخر کار بخشا جائے گا ۔ شرکاء سے مراد دنیا کے شریک وحصہ دار ہیں یا مشرکین کے بت وغیرہ جنہیں وہ اللہ کے شریک جانتے تھے ۔ (مراۃ المناجیح ،ج۷،ص۱۳۰)