| احادیث مبارکہ کے اَنوار |
عَنْ أَنَسٍ( رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ) قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ وَیَکْثُرَ الْجَہْلُ وَیَکْثُرَ الزِّنَا وَیَکْثُرَ شُرْبُ الْخَمْرِ وَیَقِلَّ الرِّجَالُ وَتَکْثُرَ النِّسَاء ُ حَتَّی یَکُونَ لِخَمْسِینَ امْرَأَۃً الْقَیِّمُ الْوَاحِدُ
( مشکوۃ المصابیح ،کتاب الرقاق ،باب اشراط الساعۃ، الفصل الاول ، الحدیث ۵۴۳۷ ، ج۲ ، ص۲۹۰)
ترجمہ:
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی نشانیوں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جاوے گا اور جہالت بڑھ جاوئے گی (۱)زنا شراب خوری بڑھ جاوے گی (۲)مرد کم ہوجائیں گے اور عورتیں زیادہ ہوجائیں گی(۳) حتی کہ پچاس عورتیں،ایک مرد منتظم ہوگا ۔(۴)
وضاحت :
(۱)علم سے مراد علم دین ہے جہل سے مراد علم دین سے غفلت آج یہ علامت شروع ہوچکی ہے دنیاوی علوم بہت ترقی پر ہیں مگر علم تفسیر ،حدیث، فقہ بہت کم رہ گئے، علماء اٹھتے جارہے ہیں ان کے جانشین پیدانہیں ہوتے ۔ مسلمانوں نے علم دین سیکھنا قریبا چھوڑ دیا بہت سے علماء واعظ بن کر اپنا علم کھو بیٹھے یہ سب کچھ اس پیش گوئی کا ظہور ہے۔