Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
43 - 71
(17)توکل وصبر کا بیان
عَنْ عَلِیٍّ قال:قالَ رسولُ اللّہ صلّی اللہ علیہ وسلّم: مَنْ رَضِیَ مِنَ اللّہِ بالیَسیر منَ الرّزقِ رضِیَ اللہُ منہ بالقلیل منَ العَمَلِ
( مشکوۃ المصابیح،کتاب الرقاق ، باب فضل الفقراء ۔۔۔۔۔۔الخ ،الفصل الثالث ، الحدیث۵۲۶۳، ج۲ ، ص ۲۵۸ )
ترجمہ: 

    روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم نے کہ جو اللہ( عزوجل) کے تھوڑے رزق پر راضی ہوگا اللہ( عزوجل) اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہوگا۔     

وضاحت :

     خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا دو قسم کی ہے، رضاء  ازلی دوسری رضاء ابدی ۔ اللہ کی رضاء ازلی ہماری رضا سے پہلے ہے جب وہ ہم سے راضی ہوتا ہے تو ہم کو نیکیوں کی توفیق ملتی ہے مگررضاء ابدی ہماری رضا کے بعد ہے ،جب ہم اللہ عزوجل سے راضی ہوجاتے ہیں نیکیاں کرلیتے ہیں تو وہ ہم سے راضی ہوتاہے یہاں رضاء ابدی کا ذکر ہے اس لیے بندے کی رضا پہلے بیان ہوئی اور اس آیت کریمہ میں رَضِیَ اللہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْاعَنْہ، میں رضاء ازلی کا ذکر ہے اس سے وہاں رضاء الٰہی عزوجل کا پہلے ذکر ہے حدیث کا مطلب ظاہر ہے کہ اگر تم معمولی روزی پاکر بہت شکر کرو تو رب تعالیٰ تمھارے معمولی اعمال کی بہت قدر فرمائے گا ۔ (مراۃ المناجیح،ج۷،ص۸۴)
Flag Counter