ترجمہ:
روایت ہے حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جو مدینہ میں مرسکے وہ وہاں ہی مرے کیونکہ میں مدینہ میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا ۔
وضاحت :
ظاہر یہ ہے کہ یہ بشارت اور ہدایت سارے مسلمانوں کو ہے نہ کہ صرف مہاجرین کو یعنی جس مسلمان کی نیت مدینہ پاک میں مرنے کی ہو وہ کوشش بھی وہاں ہی مرنے کی کرے کہ خدا( عزوجل) نصیب کرے تو وہاں ہی قیام کرے خصوصاًبڑھاپے میں اور بلاضرورت مدینہ پاک سے باہر نہ جائے کہ موت ودفن وہاں کاہی نصیب ہو ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا کرتے تھے کہ مولا مجھے اپنے محبوب کے شہر میں شہادت کی موت دے آپ کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ سبحان اللہ فجر کی نماز مسجد نبوی ، محراب النبی ،مصلّٰی نبی اور وہاں شہادت ۔ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ تیس چالیس سال سے مدینہ منورہ میں ہیں حدود مدینہ بلکہ شہر مدینہ سے بھی باہر نہیں جاتے اسی خطرہ سے کہ موت باہر نہ آجائے حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ کا بھی یہ ہی دستور رہا