ترجمہ:
روایت ہے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم نے حلال کمائی کی تلاش (۱)ایک فرض کے بعد دوسرا فرض ہے۔ (۲)
وضاحت :
(۱) کسب بمعنی مکتسب ہے یعنی پیشہ اور حلال حرام کا مقابل بھی ہے اور مشتبہات کا بھی کیونکہ حرام کمائی کی تلاش حرام ہے اور مشتبہ کی مکروہ(مرقاۃ )تلاش سے مراد جستجو کرنا اور حاصل کرنا ہے۔
(۲)یعنی عبادات فرضیہ کے بعد یہ فرض ہے کہ اس پر بہت سے فرائض موقوف ہیں خیال رہے کہ یہ حکم سب کیلئے نہیں ،صرف ان کیلئے ہے جن کا خرچ دوسروں کے ذمّہ نہ ہو بلکہ اپنے ذمّہ ہو ،اور اس کے پاس مال بھی نہ ہو ،ورنہ خود مالدار پر اور چھوٹے بچوں پر فرض نہیں ،یہ خیال رہے کہ بقدر ضرورت معاش کی طلب ضروری ہے ،صرف اکیلے کو اپنے لائق بال بچوں والے کو ان کے لائق کمانا ضروری ہے بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ فرمانے سے معلوم ہوا کہ کمائی کی فرضیّت نماز روزہ کی فرضیّت کی مثل نہیں کہ اس کا منکر کافر ہو اور تارک فاسق ۔ (مرأۃ المناجیح،ج ۴،ص۲۳۹)