Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
32 - 71
       (۲)یہ صاحب بڑے متقی، پرہیز گار، عبادت گزار تھے مگر انہوں نے اپنے اعمال کو قیامت کی تیار ی قرار نہ دیا کہ یہ سب نیکیاں تو اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ہے جو مجھے دنیا میں مل چکیں اور مل رہی ہیں آخرت کی تیاری صرف یہ ہے کہ مجھے اس برات کے دولہا سے محبت ہے دولہا سے تعلق اس سے محبت برات کے کھانے وانے ،جوڑے انعام کا مستحق بنادیتے ہیں۔(صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ اللہ رسول سے محبت سائرین اور طائرین کے مقامات میں سے اعلی مقام ہے ساری عبادات محبت کی فروع ہیں ۔مگر محبت کے ساتھ اطاعت بلکہ متابعت ضروری ہے برات کا کھانا صرف عمدہ لباس سے نہیں ملتا بلکہ دولہا کے تعلق سے ملتاہے اگر رب تعالیٰ سے کچھ لینا ہے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم) سے تعلق پیدا کر۔

    (۳)یعنی حضرات صحابہ کرام کو سب سے بڑی خوشی تو اپنے اسلام لانے پر ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مومن صحابی بننے کی توفیق بخشی اس کے بعد آج یہ فرمان عالی سن کر بڑی خوشی ہوئی اس خوشی کیوجہ یہ ہے کہ حضرات صحابہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم) پر دل وجان سے فدا تھے ۔ ان میں سے بعض تو حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم) کے بغیر چین نہ پاتے تھے انہیں کھٹکا تھا کہ مدینہ منورہ میں تو ہم کو حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم) کی ہمراہی نصیب ہے کہ یارنے مدینہ میں اپنا کاشانہ بنایا ہے مگر جنت میں کیا بنے گا کہ حضور انور( صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم) کا مقام اعلی علیین سے بھی اعلی ہوگا ہم کسی اور درجہ میں ہوں گے آج حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم )نے پردہ اٹھا دیا تمام کو تسلی دے دی فرمادیا کہ جس کو مجھ سے صحیح محبت ہوگی اسے مجھ سے فراق نہ ہوگا میرے ساتھ ہی رہے گا خیال رہے کہ یہاں درجہ کی ہمراہی یا برابری مراد نہیں بلکہ ایسے ہمراہی مرادہے جیسے