Brailvi Books

احادیث مبارکہ کے اَنوار
27 - 71
حضور انور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)نے حجۃ الوداع کا خطبہ اسی اونٹنی پر دیا تھا۔

(٢)عترت کے معنی ۔ قوم،اقارب،نزدیکی لوگ،ایک دادا کی اولاد،اور گھر والے ہیں،اَھْلُ بَیْتِیْ  فرماکر عترت کی تفسیر فرمادی کہ یہاں عترت سے مراد اہل بیت ہیں قرآن پکڑنے سے مراد ہے اس کے اوپر عمل کرنا عترت کو پکڑنے سے مراد ہے ان کا احترام کرنا ان کی روایات پر اعتماد کرنا ان کے فرمانوں پر عمل کرنا اس کامطلب یہ نہیں کہ صرف اہل بیت ہی کو پکڑو باقی کو چھوڑ دو صحابہ کے متعلق ارشاد فرمایا
اہل بیت امت کیلئے کشتی ہیں صحابہ امت کیلئے تارے ہیں سمندر کے سفر میں دونوں کی ضرورت ہے ا س میں اشارۃً فرمایا گیا کہ اہل بیت رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم) خواہ ازواج پاک ہوں یا اولاد سب ہمیشہ ہدایت پر رہیں گے کبھی گمراہ یا بے راہ نہ ہوں گے بعض شارحین نے کہا ہے کہ اہل بیت کی اطاعت ان احکام میں ضروری ہے جو خلاف شرع نہ ہوں مگر حق یہ ہے کہ وہ حضرات نہ تو خلاف شرع کوئی کام کرتے ہیں اور نہ اس کا حکم دیتے ہیں(مرقات) بعض جاہل کہتے ہیں کہ یہاں اہل بیت سے مراد قیامت تک کے سید ہیں مگریہ غلط ہے سید کہلانے والے لوگ بعض مرزائی شیعہ وغیرہ ہیں بعض فساق پھر ان کی اطاعت کیسی ان لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاوے۔     (مراۃ المناجیح،ج۸،ص۴۶۷)
أَصْحَابِیْ کَا لنَّجُوْمِ بِاَیِّھِمْ اِقْتدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ
Flag Counter