وضاحت :
(۱)یعنی صلح حدیبیہ کے دن حدیبیہ کنویں کا پانی ہم نے تھوڑی دیرمیں ہی خشک کردیا جیسے کہ عرب کے کنووں کا حال ہوتاہے اب پانی صرف ایک چمڑے کے ڈول میں تھا ۔ جو حضور انور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کے سامنے رکھا ہوا تھا ''رکوہ'' حمیرہ کا ایک ڈول یابڑالوٹاجس سے وضووغیرہ کیا جاوے۔
(۲)یعنی اسلامی فوج بغیرپانی کے ہے، پیاسی بھی ہے، وضووغیرہ کی بھی اسے ضرورت ہے اور پانی صرف اتناہے جتناآپ کے ساتھ ہے۔
(۳)حضور انور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کایہ معجزہ حضرت موسی علیہ السلام کے اس معجزہ سے افضل ہے کہ موسی علیہ السلام نے پتھرپرعصاماراتواس سے پانی کے بارہ چشمے جاری ہو گئے کیونکہ پتھرسے پانی جاری کردیناواقعی معجزہ ہے مگر انگلیوں سے پانی کے چشمے بہا دینا بڑامعجزہ ہے۔اعلیٰ حضرت قُدِّس سرہ ،نے خوب فرمایا ؎
اونگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندیاں پنج آب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
(۵)خوش نصیب تھے وہ حضرات جنہیں اس پانی سے وضو نصیب ہوگیا ۔جس سے ان کے ظاہر باطن دونوں پاک ہوئے یہ پانی تمام پانیوں سے افضل تھا حتی کہ آب زم زم سے بھی ( از مرقاۃ)
(۶)خیال رہے کہ اہل حدیبیہ کی تعداد میں مختلف روایات ہیں چودہ سو ،پندرہ سو ،تیرہ سو مگر تحقیق یہ ہے کہ ان کی تعداد پندرہ سو پچیس تھی باقی روایات یا توتخمینی ہیں یا