تھے ۔
(۲۱)یعنی اس لیے آئے تھے کہ تمھارے سامنے مجھ سے سوالات کریں تم جوابات سن کر دین سیکھ لواس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر حضور صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت واجب ہے نہ کہ جبرائیل کی کہ یہاں جبرائیل نے حاضرین سے خود نہ کہہ دیا کہ لوگو!میں جبرائیل ہوں مجھ سے فلاں فلاں بات سیکھ لو بلکہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم) سے کہلوایا تاکہ لوگوں کیلئے قابل قبول ہو،جبرائیل کے معنی ہیں ''عبداللہ'' جبربمعنی عبد،ایل بمعنی اللہ بزبان عبرانی۔
(۲۲)یعنی پانچ چیزیں رب عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔قیامت کب ہوگی،بارش کب آئے گی ،ماں کے پیٹ میں کیا ہے اور میں کل کیا کروں گا اور میں کہاں مروں گا اس میں سورت لقمان کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے اس آیت وحدیث کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ عزوجل نے کسی کو یہ علم دئیے بھی نہیں کاتب ِتقدیر فرشتہ اور ملک الموت کو یہ علوم بخشے گئے ہمارے حضور (صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم)نے بدر کی جنگ سے پہلے زمین پر خطوط کھینچ کر فرمایا کہ کل یہاں فلاں فلاں کافرماراجاوے گابلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ علوم خمسہ قیاس، تخمینہ ،حساب سے معلوم نہیں ہوسکتے صرف وحیِ اِلٰہی سے ان کا پتہ لگ سکتاہے ۔ (مراٰۃالمناجیح،ج۱،ص۲۴تا۲۷)