| آدابِ دین |
ہو جائے توسامنے والے کی عزت کا خیال رکھ اوراپنی دلیل میں غوروفکرکر اورہاتھ سے کسی کی طرف اشارہ نہ کر اورگھٹنوں کے بل نہ بیٹھ۔جب تیرا غصہ ختم ہو جائے تب کلام کر۔
اگرتجھے بادشاہ کی صحبت میسر آئے تواس سے خوف زدہ رہ اوراپنے بارے میں اس کی حالت ورائے کے تبدیل ہونے سے امن میں نہ رہ اوربادشاہ کے ساتھ اس طرح شفقت ونرمی سے پیش آ، جس طرح بچے پر شفقت ونرمی کرتاہے، بادشاہ کی خواہش کے مطابق اس سے کلام کر، اگرچہ بادشاہ تیری بات سن لیتاہے پھربھی اس کے ،اس کے گھر والوں، اس کی اولاداوراس کے رشتے داروں کے معاملات میں دخل اندازی مت کر۔
اپنے پسندیدہ دوستوں سے خاص طور پر بچ کیونکہ وہ تیرے دشمنوں میں سے ایک ہیں اوراپنے مال کواپنی عزت سے زیادہ عزیزنہ جان۔ جب لوگوں کے درمیان ہو تو کثرت سے تھوکنے سے گریز کر کیونکہ ایساکرنے والے کوعورتوں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، اور اپنے دوست کے سامنے اس کی اس چیزکا اظہارنہ کرجس کی وجہ سے تجھے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ جب وہ تیری کسی نازیباحرکت کو دیکھے گاتوتجھ سے دشمنی کریگا (یعنی بدلہ لے گا)۔ نہ تو کسی عقلمندسے مذاق مسخری کرکہ وہ تجھ سے حسدکرنے لگ جائے، اور نہ ہی کسی بے وقوف کا مذاق اڑا کہ وہ تجھ پرہی جرأت کربیٹھے،کیونکہ ہنسی مذاق رعب ودبدبے کو دور کرتا، مقام ومرتبے کوگرادیتا،چہرے کی رونق اورآب وتاب ختم کرتا،غم کاسبب بنتا، محبت کی مٹھاس ختم کرتا، سمجھ دار کی عقل وفہم کوعیب دارکرتا، بیوقوف کوجری کرتا،عقل ودماغ کو فنا کرتا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے دور کرتا،مذمت وبرائی کاباعث بنتا،ضبط وتحمل ختم کرتا، نیتوں میں فتورڈالتا، دلوں کومردہ کرتا، گناہوں کی کثرت کاسبب بنتااورخامیوں کوظاہر کرتا ہے۔