Brailvi Books

آدابِ دین
57 - 60
متفرق آداب
 (بعض حکماء نے یہ آداب بیان فرمائے ہیں)

    اپنے دوست ودشمن کو ذلیل ورسواکئے بغیرخندہ پیشانی سے اُن کے ساتھ ملاقات کر، ان سے خوف زدہ نہ ہو، ان پر بڑائی وبرتری کی تمنّاکئے بغیران کی تعظیم و توقیر کر، اپنے تمام امورمیں میانہ روی اختیارکر، غروروتکبرنہ کر، اِدھر اُدھرتوجہ کرنے سے بچ، لوگوں کے مجمعوں کا معائنہ نہ کر۔جب توکہیں بیٹھے تو بلند ہو کر بیٹھ اور اپنی انگلیوں کو چٹکانے، انگوٹھی کے ساتھ کھیلنے، دانتوں کاخلال(یعنی صفائی) کرنے، بار بار ناک میں ہاتھ ڈالنے (یعنی اُسے صاف کرنے)، چہرے سے مکھیاں اُڑانے اور کثرت سے انگڑائی اور جماہی لینے سے بچ، تیری محفل پرسکون اور کلام پردلیل ہو، جو تجھ سے گفتگو کرے اس کے عمدگئ کلام کی طرف متوجہ ہو کرنہ تو تعجب کر، نہ عاجزی وبیچارگی کا اظہار کر اورنہ ہی اس سے بے تعلق ہونے کی کوشش کر، ہنسی مذاق اورحکایات وغیرہ بیان کرنے پراس کامؤاخذہ نہ کر،اپنی اولاداور خادمہ کے حسن وجمال کے متعلق گفتگونہ کر، نہ توسجی سنوری عورت کی طرح بن ٹھن کر رہ اور نہ ہی غلام کی طرح چھچھوراپن اختیار کر۔ تمام امورمیں میانہ روی اختیارکر،کثرت سے سرمہ لگانے اوربالوں میں تیل ڈالنے میں اسراف کرنے سے بچ، حکایات وغیرہ بیان کرنے میں شوخی نہ جتا،اپنے اہل وعیال کوزیادہ شہرت نہ دے ،حضرتِ سیِّدُناامام مالک بن اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی :''کیونکہ اگرشہرت کم ہوگی توتمہارے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہ ہوگی اوراگرزیادہ ہوگی توپھربھی تواہل وعیال کوراضی نہ کرسکے گا۔''ان سے بغیرکسی لالچ کے محبت کراوربغیرکسی خوف کے ان کے لئے نرم خُوہوجا۔ جب تیری کسی سے تلخ کلامی
Flag Counter