| آدابِ دین |
(صاحبِ ثروت کوچاہے کہ) عاجزی وانکساری کی عادت اپنائے، تکبرسے بچے، ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرے،نیک اعمال کی طرف رغبت کرے،فقیر کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئے اور دل کھول کراس کی مددکرے، ہر کسی کے سلام کا جواب دے، قناعت پسندی کا اظہار کرے، اچھی گفتگوکرے،خوش اسلوبی سے لوگوں کو اپنے ساتھ مانوس کرے اورصدقہ وخیرات کے ذریعے ان کی مدد کر ے۔
فقیرکے آداب
(فقیرکوچاہے کہ) تھوڑی چیز پر صبرواکتفا کرے،غربت کو چھپائے،نہ توپھٹے پرانے کپڑے پہنے اورنہ ہی(جسمانی) کمزوری کا اظہارکرے،حرص ولالچ کی عادت چھوڑ دے، اہلِ مُرُوَّت دین دار لوگوں کے سامنے کفایت شعاری اپنائے،اغنیاء کی تعظیم وتوقیر کرے اوران سے زیادہ ہنسی مذاق نہ کرے، ان (کے پاس موجودمال ودولت) سے ناامیدہونے کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے قناعت پسندرہے،ان پر بڑائی نہ چاہے اورعاجزی وانکساری ترک نہ کرے۔ جب اغنیاء کو دیکھے تواپنے دل کی حفاظت کرے اوردِین کومضبوطی سے تھام لے (یعنی اس پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو)۔
تحفہ دینے والے کے آداب
جسے تحفہ دے رہاہے اس کی فضیلت کومد ِنظررکھے،اس کے تحفے کوقبول کرلیا جائے توخوشی ومسرت کااظہار کرے،جب تحفہ لینے والے سے ملاقات کرے تو اس کا