Brailvi Books

آدابِ دین
36 - 60
صدقہ دینے والے کے آداب
     صدقہ کرنے والے کو چاہے کہ سوال کرنے سے پہلے صدقہ دے، خفیہ طور پر صدقہ دے اوردینے کے بعدبھی اسے چھپائے،سوال کرنے والے کے ساتھ نرمی سے پیش آئے، اس کے مانگنے سے پہلے اسے جواب نہ دے،اس کے متعلق وسوسوں کا شکار نہ ہو(کہ نہ جانے کیوں مانگ رہاہے؟کیامجبوری ہے؟ وغیرہ وغیرہ)، اپنے نفس کوبخل سے روکے، سائل نے جس چیزکا سوال کیاہے اسے وہ چیزعطا کر دے یااچھے طریقے سے اسے لوٹا دے، اگر ازلی دشمن ابلیس لَعْنَۃُ اللہِ عَلَیْہ اس سے اس کے دل میں وسوسہ اندازی کرے کہ سائل اس چیز کاحق دارنہیں تو اس کی مخالفت کرتے ہوئے سائل کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ نعمتیں دئیے بغیر نہ لوٹائے کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے۔(ہاں! اگر سائل
مُتَعَنِّت
 (یعنی پیشہ ور بھکاری )ہو تونہ دے۔
 (بہارِشریعت،ج۱،حصہ۵،صفحہ۹۴۵،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)۔
سائل کے آداب
    (سوال کرنے والے کوچاہے کہ) حقیقتِ حال بیان کرتے ہوئے اپنی غربت وتنگ دستی ظاہر کرے، انتہائی نرمی سے سوال کرے، جو چیز اسے دی جائے شکراداکرتے ہوئے لے لے اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہواور(دینے والے کو)دعائے خیر دے، اگر اسے لوٹا دیا جائے تو عذر قبول کرتے ہوئے خاموشی سے لوٹ آئے، بار بار آنے اور مانگنے میں اصرار کرنے سے بچے۔
Flag Counter