Brailvi Books

آدابِ دین
35 - 60
کرنے والوں کی عزت واحترام کرے ،مگر ان سے مصافحہ نہ کرے۔(۱)
تعزیت کرنے والے کے آداب
    (تعزیت کرنے والے کوچاہے کہ)عاجزی وانکساری اور رنج وغم کااظہار کرے، گفتگو کم کرے اور مسکرانے سے بچے کہ(ایسے موقع پر)مسکرانا (دلوں میں) بغض وکینہ پیدا کرتا ہے۔
جنازے کے ساتھ چلنے کے آداب
    (جنازے کے ساتھ جانے والے کو چاہے کہ) ہمیشہ دل میں( اللہ عَزَّوَجَلَّ کا) خوف رکھے ،نگاہیں نیچی رکھے، گفتگو وغیرہ نہ کرے،عبرت کی نگاہ سے میت کو دیکھے، قبرکے سوال وجواب میں غورو فکر کرے،جس چیز کے مطالبہ کاخوف کرتاہے(کہ اس کے بارے میں سوال ہوگا) پختہ ارادے کے ساتھ اسے بجالانے میں جلدی کرے، موت کے اچانک حملے کے وقت طاری ہونے والی حسرت وندامت سے ڈرے ۔
1۔۔۔۔۔۔ تاکہ کمزور عقیدے والایہ گمان نہ کرے کہ ایک مریض کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ جیسا کہ، حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا: '' جزامی سے ایسے بھاگ جیسے شیر سے بھاگتا ہے۔ ''حکیم الامت حضرتِ سیِّدُنا مفتی احمدیارخان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:''یہ حکم عوام کے لئے ہے جن کاعقیدہ بگڑجانے کاخوف ہوکہ اگرکوڑھی کے پاس بیٹھنے سے اتفاقاًانہیں بھی کوڑھ ہوجائے تو سمجھیں گے کہ کوڑھ اڑ کر لگ گئی ان کے لئے کوڑھی سے علیحدگی اچھی ہے،خاص متوکل لوگ جن کے دلوں پر اس سے کوئی اثرنہ پڑے ان کے لئے یہ حکم نہیں۔''(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصبیح ج۶، ص۲۵۷، مطبوعہ ضیاء القرآن)
Flag Counter