Brailvi Books

اچھے ماحول کی برکتیں
45 - 50
(۳۶)اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچائے گی۔
(سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی التناجی، الحدیث:۴۸۵۱، ج۴، ص۳۴۶)
(۳۷)حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آتا وہ آخرمیں بیٹھ جاتا ۔
(سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی التحلق، الحدیث:۴۸۲۵، ج۴، ص۳۳۹)
(۳۸)مسلمان کا مسلمان پر (یہ ) حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لئے سرک جائے۔ (یعنی مجلس میں آنے والے اسلامی بھائی کے لئے اِدھر اُدھر کچھ سرک کر جگہ بنادے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے۔)
(شعب الایمان،باب فی مقاربۃ...الخ،فصل فی قیام المرء لصاحبہ،الحدیث۸۹۳۳،ج۶،ص۴۶۸)
(۳۹)حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے (اس بات سے) منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھادیا جائے اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم سرک جایا کرو اور جگہ کشادہ کردیا کرو (یعنی بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ آنے والے اسلامی بھائی کے لئے سرک جائیں اور اسے بھی جگہ دے دیں تاکہ وہ بھی بیٹھ جائے) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما( اس بات کو) مکروہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھیں۔( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا یہ فعل کمال درجہ کی پرہیزگاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ہو)۔
(صحیح البخاری،کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم...الخ، الحدیث۶۲۷۰، ج۴،ص۱۷۹)
Flag Counter