(۲۲)حضرت نافع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا اہلِ شام میں سے ایک دوست تھا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خط و کتابت رکھتا تھا چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کے لئے خط لکھا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ مسئلہ تقدیر میں تمہیں کچھ کلام (انکار) ہے لہٰذا میرے لئے آئندہ خط نہ لکھنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میری اُمّت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے۔
(سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب لزوم السنۃ، الحدیث:۴۶۱۳، ج۴، ص۲۷)
(۲۳) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا: قدریہ اس امت کے مجوس ہیں، اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرنا اور اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں شامل نہ ہونا۔
(سنن ابی داود،کتاب السنۃ،باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ،الحدیث۴۶۹۱،ج۴،ص۲۹۴)
(۲۴)کچھ کلمات ہیں جنہیں کوئی اپنی مجلس میں کھڑے ہوتے وقت پڑھتا ہے تو اس کی طرف سے کفارہ ہوجاتے ہیں اور جو ان کلمات کو بھلائی و ذکر کی مجلس میں پڑھتا ہے تو ان کی اس پر مہر لگادی جاتی ہے جیسے کاغذ پر مہر لگائی جاتی ہے۔ (وہ کلمات یہ ہیں)
''سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ ''
(سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی کفارۃ المجلس،الحدیث۴۸۵۷، ج۴،ص۳۴۷)
(۲۵)جو لوگ مجلس سے اُٹھ جائیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کریں، تو وہ ایسے اٹھے