| اچھے ماحول کی برکتیں |
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: نہیں(پھر) دونوں نے کہا: ہم آپ کوکتاب اللہ کی ایک آیت سنائیں؟ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: نہیں پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: تم دونوں مجھ سے دور ہوتے ہو یا میں (خود) اٹھ جاؤں حضرت ابن عبید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کہا ( یہ سُن کر) وہ دونوں چلے گئے تو کسی شخص نے کہا: اے ابوبکر! (یہ ابن سیرین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کنیت تھی) آپ پر کیا حرج تھا کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت سنادیتے، آپ نے فرمایا:( میں اس بات سے ڈرا کہ) وہ مجھے ایک آیت سناتے پھر اسے بدل ڈالتے (یعنی معنوی تحریف کردیتے اور وہ میرے دل میں ٹھہر جاتی )۔
(سنن الدارمی،المقدمۃ،باب اجتناب اہل الاہواء...الخ،الحدیث۳۹۷،ج۱،ص۱۲۰)
(۱۹)حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیااورکہاکہ فلاںآپ کوسلام بھیجتاہے (یہ سن کر)آپ نے فرمایا:مجھے خبرپہنچی ہے کہ اس نے دین میں نئی بات پیداکی ہے یعنی بدعت سیئہ کامرتکب ہواہے پس اگراس نے (دین میں نئی بات)پیداکی تواسے سلام نہ پہنچانا۔
(سنن الدارمی،المقدمۃ، باب اجتناب اہل الاہواء...الخ، الحدیث۳۹۳، ج۱،ص۱۲۰)
(۲۰)اچھے مصاحب (پاس بیٹھنے والے) کی مثال مشک والے جیسی ہے اگر تجھے اس سے کچھ نہ ملے تب بھی خوشبو پہنچے گی اور بُرے مصاحب کی مثال بھٹی والے کی طرح ہے اگر تجھے (اس کی بھٹی کی) سیاہی نہ بھی پہنچے پھربھی اس کادھواں توپہنچے گا۔
(سنن ابی داود،کتاب الادب،باب من یؤمر ان یجالس،الحدیث۴۸۲۹، ج۴،ص۳۴۰)
(۲۱)تین چیزیں تیرے لئے تیرے بھائی کی خالص محبت کرنے کا ذریعہ ہیں، (۱) جب تو اس سے ملے تو اسے سلام کرے (۲) اور تو اس کے لئے مجلس میں (جگہ) کشادہ کرے ۔