(۷)تو بُرے ساتھی سے بچ کیونکہ تو اس کے ساتھ پہچانا جائے گا۔
(کنزالعمال، کتاب الصحبۃ، قسم الاقوال، الباب الثالث فی الترہیب عن صحبۃالسوء، الحدیث:۲۴۸۳۹، ج۹، ص۱۹)
(۸)تو بُرے ساتھی سے بچ کیونکہ وہ جہنم کاایک ٹکڑاہے اس کی محبت تجھے فائدہ نہیں پہنچائے گی اوروہ اپناعہدتجھ سے وفانہیں کریگا۔
(فردوس الاخبار، الحدیث:۱۵۷۳، ج۱، ص۲۲۴)
(۹)حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میرے نزدیک لوگوں میں زیادہ محبوب وہ ہے جو میرے عُیوب مجھ پر پیش کرے۔
(الطبقات الکبری، ذکراستخلاف عمر رحمہ اللہ، ج۳، ص۲۲۲)
(۱۰)تم ہر عالم کے پاس مت بیٹھو مگر وہ عالم جو تمہیں پانچ (چیزوں) سے پانچ (چیزوں) کی طرف بلائے یعنی (۱) شک سے یقین کی طرف (۲) غرور سے تواضع و انکساری کی طرف (۳) دشمنی سے نصیحت و خیر خواہی کی طرف (۴) ریاء نمود ونمائش سے اخلاص کی طرف (۵)