Brailvi Books

اچھے ماحول کی برکتیں
35 - 50
گا۔ اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے اور اس کی دوری نزدیکی سے بہتر ہے اور کذاب سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ معاشرت تجھے نفع نہیں دے گی تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا جب بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔
(کنزالعمال، کتاب الصحبۃ، قسم الافعال، باب فی آداب الصحبۃ، الحدیث:۲۵۵۷۱، ج۹، ص۷۵)
    حضرت مالک بن دینار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے داماد حضرت مغیرہ بن شعبہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے فرمایا:
کُلُّ اَخٍ وَّ صَاحِبٍ لَمْ تَسْتَفِدْ مِنْہُ فِی دِیْنِکَ خَیْرًا فَاَنْبِذْ عَنْکَ صُحْبَتَہ' حَتّٰی تَسْلَمَ.
(کشف المحجوب ، باب الصحبۃ ومایتعلق بہا ، ص۳۷۴۔حلیۃ الاولیاء ، المغیرۃ بن حبیب ، الحدیث:۸۵۵۵، ج۶، ص۲۶۷)
ترجمہ : اے مغیرہ ! جس بھائی یا ساتھی کی صحبت تمہیں دینی فائدہ نہ پہنچائے تم اس کی صُحبت سے بچو تاکہ تم محفوظ و سلامت رہو۔
پیارے اسلامی بھائیو!

    حدیث مبارک اور حضرت مالک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول مبارک سے بخوبی معلوم ہوا کہ بُری صحبت سے بچنا لازم و ضروری ہے بُری صحبت چونکہ ماحول ہی کی پیداوار ہے چنانچہ بُرے ماحول کا بائیکاٹ کرنا بُری صحبت سے اجتناب کرنا ہے۔

خبردار ہوجائیے!کیا آپ غافل ہیں؟کیا آپ نے اس ایمان سوز اور دلخراش منظر کو نہیں دیکھا؟اگر نہیں دیکھا تو سُنیے اور بچئے!کیونکہ مُعاملہ ایمان کا ہے۔
Flag Counter