Brailvi Books

اچھے ماحول کی برکتیں
34 - 50
    ایک حدیث شریف میں اچھے دوست کی پہچان یہ کرائی گئی کہ ''اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو خدا کو یاد کرے وہ تیری مدد کرے اور جب تو بھُولے تو یاد دلادے۔
(الجامع الصغیر، باب حرف الخاء، الحدیث:۳۹۹۹، ص۲۴۴)
    حدیث شریف میں آتا ہے کہ:'' جب ایک شخص دوسرے شخص سے بھائی چارہ کرے تو اس کا نام اور اس کے باپ کانام پوچھ لے اور یہ کہ وہ کس قبیلہ سے ہے، کہ اس سے محبت زیادہ پائیدار ہوگی۔''
(سنن الترمذی، کتاب الزہد، باب ماجاء فی اعلام الحب، الحدیث:۲۴۰۰، ج۴،ص۱۷۶)
بُرے دوست کی ہمنشینی ہلاکتِ دارین ہے
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم فرماتے ہیں کہ بُرے مصاحب (ساتھی ،ہمنشین ) سے بچ کہ تو اسی کے ساتھ پہچانا جائے گا یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست و برخاست ہوتی ہے، لوگ اسے ویسا ہی جانتے ہیں۔
(کنزالعمال، کتاب الصحبۃ، قسم الاقوال، الباب الثالث فی الترہیب عن صحبۃ السوء، الحدیث:۲۴۸۳۹، ج۹،ص۱۹)
     حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لئے مزین کریگا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور ننگ ہے اور احمق سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ اپنے کو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کبھی نفع نہیں پہنچائے گا اور کبھی یہ ہوگا کہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا مگر ہوگا یہ کہ نقصان پہنچادے
Flag Counter