بُرے دوست کی ہمنشینی ہلاکتِ دارین ہے
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم فرماتے ہیں کہ بُرے مصاحب (ساتھی ،ہمنشین ) سے بچ کہ تو اسی کے ساتھ پہچانا جائے گا یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست و برخاست ہوتی ہے، لوگ اسے ویسا ہی جانتے ہیں۔
(کنزالعمال، کتاب الصحبۃ، قسم الاقوال، الباب الثالث فی الترہیب عن صحبۃ السوء، الحدیث:۲۴۸۳۹، ج۹،ص۱۹)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لئے مزین کریگا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور ننگ ہے اور احمق سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ اپنے کو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کبھی نفع نہیں پہنچائے گا اور کبھی یہ ہوگا کہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا مگر ہوگا یہ کہ نقصان پہنچادے