کام میں خرچ کرلئے جائیں اس نیّت سے عنایت فرمایا کریں کیونکہ اگر مخصوص کر کے دیا مَثَلاً کہا کہ:’’یہ دعوتِ اسلامی کے مدرَسے کیلئے ہے ‘‘تو اب مسجِد یا کسی اورمدّ( یعنی عنوان) میں اس کا استِعمال کرنا گناہ ہوجائے گا ۔لینے والے کو بھی چاہیے کہ اگر کسی مخصوص کام کیلئے بھی چندہ لے تو اِحتیاطاً کہہ دیا کرے کہ ہمارے یہاں مَثَلاًدعوتِ اسلامی میں اوربھی دینی کام ہوتے ہیں ،آپ ہمیں ’’کُلّی اختیارات‘‘ دے دیجئے تاکہ یہ رقم دعوتِ اسلامی جہاں مناسب سمجھے وہاں نیک اورجائز کام میں خرچ کرے۔ یاد رہے! چندہ دینے والا ’’ ہاں ‘‘ کرے اور وہ چندے یاکھال وغیرہ کا اصل مالِک ہو تو ہی ’’اجازت‘‘ مانی جائے گی۔ لہٰذا چندہ یا کھال پیش کرنے والے سے پوچھ لیا جائے کہ یہ کس کی طرف سے ہے اگر کسی اور کا نام بتائے تو اب اس کا ’’ ہاں ‘‘ کرنا مفید نہ ہو گا اصل مالِک سے فون وغیرہ کے ذَرِیعے رابطہ کرے۔(زکوٰۃاور فطرہ دینے والے سے کُلّی اختیارات لینے کی حاجت نہیں کیوں کہ یہ ’’شرعی حیلے ‘ ‘ کے ذَریعے استعمال کیے جاتے ہیں )
عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ محلہ سوداگران ، پرانی سبزی منڈی ، باب المدینہ کراچی، پاکستان فون : 4921389-91
www.dawateislami.net
مدنی التجا: قربانی کے تفصیلی مسائل بہارِشریعت جلد 3 صفحہ 337 تا353میں