Brailvi Books

ابلق گھوڑے سوار
44 - 46
     (فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہَ۔ یعنی جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بھی شکرادا نہ کیا۔(تِرمِذی ج۳ص۳۸۴حدیث ۱۹۶۲)){۱۶} کھال دینے والے پر انفِرادی کوشِش کر کے اُس کو سنّتوں بھرے اجتِماع اور {۱۷} مَدَنی قافِلوں میں سفر وغیرہ کی رغبت دلاؤں گا{۱۸} بعد میں بھی اُس سے رابِطہ رکھ کر کھال دینے کے اِحسان کے بدلے میں اُسے مَدَنی ماحول میں لانے کی کوشِش کروں گا اگر {۱۹} وہ مَدَنی ماحول میں ہوا تو اُسے مَدَنی قافِلے کا مسافِریا{۲۰} مَدَنی اِنعامات کا عامِل بناؤں گا یا {۲۱ } کوئی نہ کوئی مزید مَدَنی ترکیب کروں گا ( ذمّے داران کو چاہئے کہ بعد میں وَقت نکال کر کھال دینے والوں کا شکریہ ادا کرنے ضَرور جائیں نیز ان سب مُحسنین کو علاقائی سطح پر یا جس طرح مناسِب ہو اکٹّھا کر کے مختصراً نیکی کی دعوت اورلنگرِ رسائل وغیرہ کی ترکیب فرمائیں۔ رسائل کی دعوتِ اسلامی کے چندے سے نہیں جُدا گانہ ترکیب کرنی ہو گی ){۲۲} دُور و نزدیک جہاں سے بھی کھال اُٹھانے ( یا بستہ یا کوئی سا کام سنبھالنے ) کا ذمّے دار اسلامی بھائی حکم فرمائیں گے، بِلا رَدّ وکَد اِطاعت کروں گا۔( یہ نیّتیں بَہُت کم ہیں ، علمِ نیّت سے آشنا مزید بَہُت ساری نیّتیں نکال سکتا ہے)
ایک اہم شَرعی مسئلہ 
     ہمیشہ قربانی کی کھالیں اورنفلی عطیّات’’کُلّی اختیارات‘‘ یعنی کسی بھی نیک اورجائز