Brailvi Books

ابلق گھوڑے سوار
43 - 46
 سے اپنے ساتھ دوسروں کو بھی ناپاک کر ڈالنے کا احتمال رہے گا){۹} خون آلود بدبو دار کپڑوں سَمیت مسجِد میں نہیں جاؤں گا ( بدبو نہ بھی آتی ہو تب بھی ناپاک بدن یا کپڑا یا چیز مسجد میں لے جانا  منع ہے ۔زخم،پھوڑے، کپڑے ، عمامے،چادر،بدن یا ہاتھ منہ وغیرہ سے بدبو آتی ہو تو تب بھی مسجِد کے اندر داخِل ہونا حرام ہے۔فیضانِ سنَّت جلد اوّل صفحہ نیچے سے1217پر ہے:مسجِد کو (بد)بُو سے بچانا واجِب ہے وَ لہٰذا مسجِد میں مِٹّی کا تیل جلانا حرام، مسجِدمیں دِیاسَلائی ( یعنی ماچِس کی تِیلی) سُلگانا حرام ، حتّٰی کہ حدیث میں ارشاد ہوا: مسجِد میں کچّا گوشت لے جانا جائز نہیں۔(اِبنِ ما جہ   ج۱ ص۴۱۳ حدیث۷۴۸ ) حالانکہ کچّے گوشْتْ کی(بد) بُو بَہُتخَفِیف ( یعنی ہلکی ) ہے{۱۰} قلم ، رسید بُک ، پیڈ ، گلاس ، چائے کے پیالے وغیرہ پاک چیزوں کو ناپاک خون نہیں لگنے دو ں گا (فتاوٰی رضویہ  مُخَرَّجہ جلد 4 صَفْحَہ585پر ہے ’’ پاک چیز کو (بلا اجازتِ شرعی) ناپاک کرنا حرام ہے‘‘) {۱۱} جو دوسرے اِدارے کو کھال دینے کا وعدہ کر چکا ہو گا اُس کوبدعَہدی کا مشورہ نہیں دوں گا( آسان طریقہ یہ ہے کہ اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ آپ سارا ہی سالمُتَوَجِّہ رہئے اور خود ہی پَہَل کر کے کھال بُک کروا کر رکھئے ) {۱۲} اپنی طے شُدہ کھال اگر کسی سنّی اِدارے کا آدمی لینے نہیں پہنچا، یا{۱۳} غَلَطی سے میرے پاس آ گئی تو بہ نیّتِ ثواب اُدھر دے آؤں گا{۱۴} جو کھال د ے گا ہو سکا تواُس کو مکتبۃُ المدینہکا کوئی رسالہ یا پمفلٹ تحفۃً پیش کروں گا {۱۵}نیزاُس کو ’’شکریہ،جَزاکَ اللہ‘‘ کہوں گا