کندھوں تک کِھچے ہوئے ہوتے ہیں۔ان پٹّھوں کا کھانا ممنوع ہے۔گائے اور بکری کے تو آسانی سے نظر آجاتے ہیں مگر مُرغی اور پرندوں کی گردن کے پٹّھے بآسانی نظر نہیں آتے ، کھاتے وَقْت ڈھونڈ کر یا کسی جاننے والے سے پوچھ کر نکا ل دیجئے۔
غُدُود
گردن پر ، حَلْق میں اور بعض جگہ چربی وغیرہ میں چھوٹی بڑی کہیں سُرخ اور کہیں مَٹیالے رنگ کی گول گول گانٹھیں ہوتی ہیں ان کو عَرَبی میں غُدَّہ اور اُردو میں غُدُود کہتے ہیں۔ یہ بھی مت کھائیے، پکانے سے پہلے ڈھونڈ کر نکال دیجئے۔ اگر پکے ہوئے گوشْتْ میں بھی نظر آ جائے تو نکا ل دیجئے۔
کپُورا
کپُورے کو خُصیَہ، فَوطہ یا بَیْضَہ بھی کہتے ہیں ان کا کھانا مکروہ تحریمی ہے۔ یہ بیل، بکرے وغیرہ (نَر یعنی مُذَکَّر) میں نُمایاں ہوتے ہیں۔مُرغے (نَر)کا پیٹ کھو ل کر آنتیں ہٹائیں گے تو پیٹھ کی اندرونی سطح پرانڈے کی طرح سفید دوچھوٹے چھوٹے بیج نُما نظر آئیں گے یہی کپُورے ہیں۔ ان کو نکا ل دیجئے۔ افسوس! مسلمانوں کی بعض ہوٹلوں میں دل ،کلیجی کے علاوہ بیل،بکرے کے کپُورے بھی توے پر بھون کر پیش کئے جاتے ہیں غالِباً ہوٹل کی زَبان میں اس ڈِش کو ’’کَٹا کَٹ ‘‘کہاجاتا ہے۔(شاید اس کو ’’کَٹاکَٹ‘‘اِ س لئے