صَراَحَۃً(یعنی کھلَّم کُھلّا،ظاہِراً)اُجرت ثابِت ہو وہاں طے کرنا واجِب ہے۔ایسے موقع پر طے کرنے کے بجائے اِس طرح کہدینا: کام پر آ جاؤ دیکھ لیں گے، جو مناسِب ہو گا دیدیں گے، خوش کر دیں گے ،خرچی ملے گی وغیرہ الفاظ قَطْعاً ناکافی ہیں۔ بِغیر طے کئے اُجرت لینا دینا گناہ ہے، طے شُدہ سے زائد طَلَب کرنا بھی ممنوع ہے۔ ہاں جہاں ایسا مُعاملہ ہو کہ کام کروانے والے نے کہا : کچھ نہیں دوں گا ، اُس نے کہدیا: کچھ نہیں لوں گا ۔ اور پھر کام کروانے والے نے اپنی مرضی سے دے دیا تو اس لین دَین میں کوئی حَرج نہیں۔
گوشت کے 22 اجزا جو نہیں کھائے جاتے
فیضانِ سنَّت جلد اوّل اوپر سے صَفْحَہ405تا 408پر ہے: میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں :حلال جانور کے سب اجزا حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں {1}رگوں کا خون {2}پِتّا {3}پُھکنا (یعنی مَثانہ) {4،5} علاماتِ مادہ ونَر {6} بَیضے (یعنی کپورے){7}غُدود {8}حرام مَغز {9}گردن کے دوپٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں {10}جگر (یعنی کلیجی) کا خون {11}تِلی کا خون