سارے گناہ کرنے پڑ جاتے ہیں۔
{17}بعض گوشْتْ فروش بیچنے کے بڑے (اور چھوٹے) جانور کی کھال اُتار لینے کے بعد گوشْتْ کے اندر موجوددل میں کٹ لگا کر اُس میں یاخون کی بڑی نس میں پائپ کے ذَرِیْعے پانی چڑھاتے ہیں ، اِس طرح کرنے سے گوشْتْ کا وَزْن بڑھ جاتا ہے۔اِس طرح کا گوشْتْ دھوکے سے بیچنا بھی حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔بعض مُرغی کا گوشْتْ بیچنے والے ذَبْح کے بعد مُرغی کے پَر اُتار کر پیٹ کی صفائی کر کے صِرف دل اُس میں لگا رہنے دیتے اور اُس مرغی کوتقریباً15مِنَٹ کیلئے پانی میں ڈالدیتے ہیں ، اِس طرح اِس کے گوشْتْ کا وَزْن تقریباً 150گرام بڑھ جاتا ہے۔ذَبح شُدہ کمزور بکرے کے ٹھنڈا ہونے کے بعد اُس کی بونگ کے ذَرِیعے گوشت میں منہ سے ہوا بھر کر گوشت کوپھلا دیتے ہیں ، گاہک گوشت لیکر گھر پہنچتا ہے تو ہوا نکل چکی ہوتی ہے اور گوشت کی تہ والی ہڈیاں رہ جاتی ہیں۔ یہ بھی سرا سر دھوکا ہے،بالخصوص قربانی کے دنوں میں وَزْن سے بیچے جانے والے زندہ بکروں وغیرہ کو بَیسن (یعنی چنے کا آٹا) کھلا کر اُوپر خوب پانی وغیرہ پلا کر ان کا وَزْن بڑھا دیا جاتا ہے ، ایسے جانور بھی یُوں دھوکے سے بیچنا گناہ ہے۔ یا درکھئے! حرام کمائی میں کوئی بھلائی نہیں۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :جس نے حرام کا ایک لقمہ کھایااُس کی چالیس دن کی نَمازیں قَبول نہیں کی جائیں گی اور اس کی دعاچالیس دن تک نامقبول ہو گی۔(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج ۳ ص ۵۹۱ حدیث ۵۸۵۳ ) مزید ایک روایت میں ہے: ’’انسان کے پیٹ میں جب حرام کا لُقمہ پڑتا ہے، زمین و آسمان کا ہرفِرِشتہ اُس پر اُس وقت تک لعنت کرتا ہے جب تک کہ وہ حرام لقمہ