دوں گا تو اب ثابِت چھوڑ نے میں کوئی حرج نہیں۔
{14}بعض قصّاب حِرص کے سبب بَہُت زیادہ جانور ’’بُک‘‘ کر لیتے ہیں اور ایک جگہ چُھری پھیر کر دوسری جگہ چلے جاتے ہیں ،پھر اُدھر گلا کاٹ کر پہلی جگہ واپَس آ کر کھال اُدھیڑ نے لگتے ہیں اور اب دوسری جگہ والے’’ انتظار‘‘ کی آگ میں سُلگتے ہیں۔ اِس طرح لوگ بَہت تکلیف میں آتے، باتیں بناتے،قصّاب کو بُرا بھلا کہتے ہیں اورپھر کئی گناہوں کے دروازے کھلتے ہیں۔قصّابوں کو چاہئے کہ کام اُتنا ہی لیں جتنا سلیقے کے ساتھ کر سکیں اور کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔
{15}قصّاب کو چاہئے کہ گوشْتْ بناتے وَقت حرام اَجْزا جُدا کر کے پھینک دے۔ جسے گوشْتْ کھانا ہو اُس پر ذبیحہ کی حرام چیزوں کی شناخت فرض اورمکروہِ تحریمی اجزا کی پہچان واجِب ہے تاکہ گناہوں بھری چیزیں نہ کھا ڈالے۔(گوشْتْ کے نہ کھائے جانے والے اجزا کا بیان آگے آ رہا ہے)
{16} گوشْتْ فَروش کو چاہئے کہ قربانی کے دنوں میں پیسے کمانے کی حرص کے سبب شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 100 جانور غَلَط سلط کاٹ کر اپنی آخِرت داؤ پر لگانے کے بجائے شریعت کے مطابِق بے شک صِرْف ایک ہی جانور کاٹے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دونوں جہانوں میں اِس کی خوب برکتیں پائے گاکہ پیسوں کے لالچ میں جلد بازی کی وجہ سے اِس کام میں بسا اوقات بَہُت