لے جانا دھوکا اور چوری ہے۔ پوچھ کربھی نہ لیں کہ’’ سُوال‘‘ہے اور بِلاحاجتِ شَرْعی سُوال جائز نہیں۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:جو شخص حاجت کے بِغیر لوگوں سے سُوال کرتا ہے وہ منہ میں انگارے ڈالنے والے کی طرح ہے۔
(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۲۷۱ حدیث ۳۵۱۷)
{8}بسا اوقات قربانی کے جانور میں سے بوٹی کا بہترین گول لوتھڑا چپکے سے ٹوکری میں سَرکالیا جاتا ہے یہ صاف صاف چوری ہے ۔ بِلا اجازت شَرْعی مانگ کر لینا بھی دُرُست نہیں۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:’’جو مال میں اِضافے کے لئے لوگوں سے سُوال کرتا ہے وہ انگارے مانگتا ہے، اب اس کی مرضی ہے کہ انگارے کم جَمْع کرے یا زیادہ۔‘‘(مُسلِم ص۵۱۸حدیث ۱۰۴۱)ہاں اگرلوگوں میں گوشْتْ بانٹا جا رہا ہے اورگوشْتْ فروش نے بھی لینے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا تو حَرَج نہیں۔
{9}گوشت کا ہروہ حصّہ جو عام دنوں میں استِعمال میں لیا جاتا ہے ، قربانی کے دنوں میں بھی کام میں لیا جائے۔پھیپھڑے اور چربی وغیرہ کے ٹکڑے کر کے گوشْتْ کے ساتھ تقسیم کر دینا مُناسب ہے، اِس طرح کی چیزوں کو پھینکا نہ جائے اگر خود کھانا یا گوشْتْ کے ساتھ تقسیم کرنا نہیں چاہتے تو یوں بھی ہو سکتا ہے کہ جوضَرورت مند لینا چاہے اُسے بلاکر دے دیا جائے یا کسی کے حوالے کردیا جائے کہ کسی ضَرورت مند کو دے دے بلکہ احتیاط اسی میں ہے کہ خود ہی کسی مسلمان کے حوالے کر