دیجئے۔ یہ مسئلہ یاد رہے کہ غیر مسلم بھنگیوں وغیرہ کوکھال توکیا ایک بوٹی بھی قربانی کے گوشْتْ میں سے دینا جائز نہیں۔
{10} اگر جانور کے گلے میں رسی ، نَتھ، چمڑے کا پٹّا، گُھنگُرو، ہار وغیرہ ہے تو ان سب کو چُھری سے جُوں توں کاٹ کر نہیں بلکہ قاعدے کے مطابِق کھول کر نکال لینا چاہئے تاکہ ناپاک نہ ہو ں۔ بِغیر نکالے ذَبح کرنے کی صورت میں یہ چیزیں خون آلود ہو جاتی ہیں اورمسئلہ یہ ہے کہ بِلاحاجت کسی پاک چیز کوقَصْداً(یعنی جان بوجھ کر) ناپاک کرنا حرام ہے۔بِالفرض ناپاک ہو بھی جائیں تب بھی ان کو پھینک نہ دیا جائے ، پاک کر کے خود استِعمال میں لائیں یا کسی مسلمان کو دیدیں۔ یاد رکھئے ! تَضیِیعِ مال( یعنی مال ضائع کرنا) حرام ہے۔
{11} چُھری پھیرنے سے قبل جانور کے گلے کی کھال نرم کرنے کیلئے اگر پاک پانی کے برتن میں ناپاک خون والا ہاتھ ڈال کر چُلّو بھرا تو چُلّو کا اور اُس برتن کا تمام پانی ناپاک ہو گیا۔ اب یہ پانی گلے پر مت ڈالئے ۔ اِس کا آسان سا حل یہ ہے کہ جن کاجانور ہے اُسی سے کہئے وہ پاک صاف پانی کا گلاس بھر کر اپنے ہاتھ سے جانور کے گلے پر ڈالئے مگریہ احتیاط کی جائے کہ گلاس سے پانی ڈالنے یا چھڑکنے کے دوران بیچ میں نہ کوئی اپنا خون آلود ہاتھ ڈالئے نہ ہی پانی والے گلے پر خون والا ہاتھ مَلے یہ بات صر ف قربانی کیلئے خاص نہیں ،جب بھی ذَبْح کریں اِس کا