ہے۔مُمکِنہ صورت میں اچھی اچھی نِیتَّیں کر کے آپ خود اُس سُنّی دارالعلوم کو کھال پہنچاد یجئے۔ اِس طرح اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں کا دل بھی خوش کرنے کی سعادت حاصِل ہو گی۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہِدایت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :’’ فرائض کے بعد سب اَعمال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو زیادہ پیارا مسلمان کا دل خوش کرنا ہے ۔ ‘‘
(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج۱۱ص۵۹حدیث۱۱۰۷۹)
اپنی قربانی کی کھال بیچ دی تو؟
سُوال: کسی نے اپنی قربانی کی کھال بیچ کر رقم حاصِل کر لی اب وہ مسجِد میں دے سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب: یہاں نیّت کا اعتِبار ہے۔ اگر اپنی قربانی کی کھال اپنی ذات کیلئے رقم کے عِوَض بیچی تو یوں بیچنا بھی ناجائز ہے اور یہ رقم اِس شخص کے حق میں مالِ خَبیث ہے اوراِس کا صَدَقہ کرنا واجِب ہے لہٰذا کسی شَرعی فقیر کو دیدے ۔اور توبہ بھی کرے اور اگر کسی کارِ خیر کیلئے مَثَلاً مسجِد میں دینے ہی کی نیّت سے بیچی تو بیچنا بھی جائز ہے اوراب مسجِد میں دینے میں کوئی حَرَج(بھی) نہیں۔