سےاجتِناب کیجئے جس سے مسلمانوں میں باہم رَنجِشیں ہوں مسلمانوں کو نفرت و وَحشت سے بچانا بَہُت ضَروری ہے۔ جیسا کہ حُضُورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشادِ معظَّم ہے: بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا۔یعنی خوشخبری سناؤ اور( لوگوں کو) نفرت نہ دلاؤ۔
(صَحیح بُخاری ج۱ص ۴۲حدیث ۶۹)
سُنّی مدرَسے کو کھال خود دے آئیے
سُوال: اگر کہیں دعوتِ اسلامی کیلئے کھال لینے پہنچے، اُس نے ایک ہمیں دی اور ایک کھال بچا کر رکھتے ہوئے کہا کہ یہ اہلسنّت کے فُلاں دارالعلوم کو دینی ہے ۔ آپ آدھے گھنٹے کے بعد معلوم کر لیجئے اگر وہ لینے نہ آئیں تو یہ کھال بھی آپ ہی لے لیجئے ۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟
جواب: یہ ذِہن میں رہے کہ قربانی کی کھالیں اِکٹھی کرنا دعوتِ اسلامی کا’’ مقصد ‘ ‘ نہیں ’’ضَرورت‘‘ ہے ۔ دعوتِ اسلامی کا ایک مقصد نیکی کی دعوت عام کرنے کی غَرَض سے نفرتیں مٹانا اور مسلمانوں کے دلوں میں مَحَبَّتوں کے چَراغ جَلانا بھی ہے ۔تمام سنّی ادارے ایک طرح سے دعوتِ اسلامی ہی کے ادارے ہیں اور دعوتِ اسلامی تمام سُنّی اداروں کی اپنی اپنی اور اپنی سنّتوں بھری تحریک