جواب:ایسا نہ کرے کہ یوں آپس میں عداوت ومُنافَرت کا سلسلہ ہو گا ، فِتنوں ، غیبتوں ، چغلیوں ، بدگمانیوں ،الزام تراشیوں اوردل آزاریوں وغیرہ گناہوں کے دروا ز ے کُھلیں گے ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد21 صَفْحَہ 253 پر فرماتے ہیں : مسلمانوں میں بِلا وجہِ شَرْعی اختِلاف و فِتنہ پیدا کرنا نَیابتِ شیطان ہے ۔ (یعنی ایسے لوگ اس مُعامَلے میں شیطان کے نائِب ہیں ) حدیثِ پاک میں ہے: ’’ فِتنہ سو رہا ہے اُس کے جگانے والے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت۔‘‘
(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۷۰حدیث ۵۹۷۵)
سُنّی مدارِس کی کھالیں مت کاٹئے
سُوال:اگر کوئی کہے کہ میں ہر سال فُلاں سُنّی اِدارے کو کھال دیتا ہوں۔ اُس کو یہ سمجھانا کیسا کہ اِس سال ہمارے دینی ادارے مَثَلاً دعوتِ اسلامی کو کھال دے دیجئے۔
جواب: اگر وہ صاحِب کسی ایسی جگہ کھال دیتے ہیں جو کہ اُس کا صحیح مَصرف ہے تو اُ س ادارے کو محروم کر کے اپنی تنظیم کیلئے کھال حاصِل کر لینا اُس اِدارے والوں کیلئے صدمے کا باعِث ہو گا ،یوں آپس میں کشیدگی پیدا ہو گی لہٰذا ہر اُس کام سے